20 جولائی 2012 - 19:30

آج امت مسلمہ کے نام نہاد مفکرین کو بھی نفسیاتی آزادی کے اِس ڈی کنڈیشنگ کے عمل سے گزارنے کی ضرورت ہے کہ جس کے نتیجہ میں خصوصاً مغربی اور عموماً تمام باطل عقائد اور افکار و نظریات سے نجات کی ضرورت ہے کہ جس کے بعد اسلام کے حقیقی نظریۂ حیات کو سمجھ سکیں۔ وہ خود بھی یہ جان سکیں اور اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں اور نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے بتا سکیں کہ اسلام امن و محبت، ہمدردی و خیر خواہی اور دنیا و آخرت میں نجات دلانے والا ہے ساتھ ہی مذہبِ اسلام، عالمِ انسانیت کی کامیابی و سرخروئی کا پیش خیمہ ہے۔ اس مہینہ میں اسی ڈی کنڈیشنگ کے عمل سے امت کے ہر فرد کو گزارا جاتا ہے۔

ابنا: کسی کے آنے کی آمد عام طور پر خوشگوار ہوتی ہے اور اس کے استقبال کی تیاریاں بھی بڑے پیمانے پر کی جاتی ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ وہ آنے والا کون ہے اور اس کی تیاریاں کیسے کی جائیں۔ فی الوقت ہم رمضان المبارک کی بات کررہے ہیں اور اس کی آمد نہ صرف ایک مسلمان کے لیے بلکہ امت مسلمہ کے علاوہ دنیا کے ہر فرد کے لیے عالمی پیمانے پر خیر و برکت والی خبر ہوا کرتی ہے۔ ماہ رمضان نزولِ قرآن کا مہینہ ہے، تقویٰ، پرہیزگاری، ہمدردی، غمگساری، محبت و الفت، خیر خواہی، خدمتِ خلق، راہ خدا میں استقامت، جذبۂحمیت اور جذبۂ اتحاد، اللہ اور رسولؐ سے بےانتہا لَو لگانے کا مہینہ ہے، لہذا اس کے استقبال کے لیے ہمیں اپنے اندر ان ہی صفات کو پیدا کرنے کی تیاری کرنا ہوںگی، جن صفات کی طرف ماہِ رمضان ہماری توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قرآن نازل ہوا، روزے فرض ہوئے، جنگ بدر پیش آئی، شبِ قدر رکھی گئی، فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا، اس کے عشروں کو مخصوص اہمیت دی گئی، پھر اس ماہ میں زکوٰۃ، انفاق اور فطرے کا اہتمام کیا گیا نتیجتاً ماہِ رمضان المبارک کی عبادات کے درجات بہت زیادہ بلند کر دیے گئے۔ لہذااس ماہ کی حیثیت کے شایانِ شان ہی اس کا استقبال بھی کیا جائے گا۔ قبل اس سے کہ رمضان کی آمد آمد ہو ہم اپنے باطن و ظاہر کو اس کے لیے تیار کر لیں۔ ظاہر و باطن کو پاک کرنے اور تیار کرنے میں نیز تقویٰ کی روش اختیار کرنے میں سب سے زیادہ جو مددگار عمل ہے وہ "روزہ"ہے۔ اسی لیے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے ماہِ شعبان میں رکھے۔ یہی اس کے استقبال کا بہترین ذریعہ ہے!

رمضان المبارک کے یہ تین واقعات: رمضان المبارک کے یہ تین واقعات وہ ہیں جس نے دنیا کی صورتحال بالکل تبدیل کردی۔ یہ صحیح ہے کہ امت کی کامیابی مختلف ادوار میں پیش آنے والے واقعات کے پس منظر میں بنائی جانے والی حکمت عملی، پالیسی، لائحہ عمل اور تدابیر وضع کرنے کے نتیجہ میں ہی ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ ابتدائی تین واقعات وہ مینارۂ نور ہیں جن کی روشنی میں یہ کام اس طرح ہو سکتا ہے کہ امت بحیثیت پوری امتِ مسلمہ اور مسلمان بحیثیت فرد، کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ اور یہ کامیابی بھی اسی طرز عمل کو اختیار کرتے ہوئے ہوگی جو پہلے کے لوگوں نے اختیار کی ہے اور اس میں یہ واقعات ہماری بہترین رہنمائی کرتے ہیں۔

پہلا واقعہ نزولِ قرآن ہے: واقعہ یہ ہے کہ قرآن نے حیاتِ انسانی کو جلا بخشی اور دنیا کو تاریکی،گمراہی اور شرک کی جڑوں سے نجات دلائی۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قرآن کو حتی الامکان سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کو اپنی عملی زندگی کے شب و روز میں پیش آنے والے معاملات میں نافذ کریں۔ اس کے مطابق اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگیوں کو ڈھالیں۔ اس کے پیغام سے پیاسی روحوں کو تازہ دم کریں۔ اس کے قیام کی سعی و جہد کریں اور اس کو وہ اہمیت دیں جو اس کا حق ادا کردے۔

دوسرا واقعہ جنگ بدر ہے: یہ واقعہ اس حق و باطل کے فرق کو کھول کر رکھ دینے کا ہے جہاں حق کے علمبردار اس سعی و جہد میں اپنی تمام نعمتوں کو اللہ کے حوالے کردیتے ہیں، جو اس نے عطا کی ہیں۔ اللہ نے عقل دی ہے اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ جس کے ذریعہ انسان اور حیوان میں فرق نمایاں ہوتا ہے۔ اللہ نے صلاحیتیں دی ہیں جن کے ذریعہ خیر و فلاح کے کام انجام دیے جاتے ہیں۔ اللہ نے علم عطا کیا ہے جس کے ذریعہ جہالت، گمراہی اور نظریۂ ہائے افکار و نظریاتِ باطل سے چھٹکارا پایا اور دلایا جا سکتا ہے۔ اللہ نے مال دیا ہے جو خدمتِ خلق اور انفاق فی سبیل اللہ کے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اللہ نے جان دی ہے جس کے ذریعہ نظامِ باطل کو زیر کیا جا سکتا ہے اور یہ آخری انتہا ہے لیکن یہ آخری انتہا سے قبل بہت سے وہ کام ہیں جن کا آغاز ہرشخص فرداً فرداً کر سکتا ہے لیکن اللہ کی راہ میں جان دینے کا کام اجتماعی ہوگا اور یہ اُسی وقت ہوگا جب اس کا تقاضا ہو، فی الوقت اس کی ضرورت نہیں ہے۔ حاملِ قرآن جب قرآن پر عمل کرنے والے ہو جائیں گے تو ان کو وہی کامیابی میسر ہوگی جو ہمیشہ اور ہر دور میں مخالفین و معاندین کے مقابلے ہوتی رہی ہے۔

تیسرا واقعہ فتحِ مبین ہے: یہ واقعہ اس بات کی شہادت پیش کرتا ہے کہ حق کے علمبردار دنیا میں بھی سرخروئی حاصل کریں گے اور آخرت کی کامیابی تو ابدی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اللہ کا گھر اور وہ مقام جو اللہ کی عبادت کے لیے مختص کر لیا گیا ہو وہ شرک اور بت پرستی سے پاک رہنا چاہیے۔ یہ زمین اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص ہے لہذا اس میں باطل سے سودے بازی نہیں کی جا سکتی۔یہ زمین وہ ہے جہاں اللہ کے نام لینے والے اللہ کے آگے سربجود ہوتے ہیں، اس کی بڑائی اور کبریائی بیان کرتے ہیں، اس سے اپنی تمام توقعات وابستہ کرتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں، اور اسلامی نظام میں اجتماعیت کی روح پھونکتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان اگر دنیا میں کسی بھی مرحلے میں کامیابی حاصل کریں تو وہ مزید اللہ کی بڑائی بیان کرنے والے بن جاتے ہیں، اس کی کمر غرور و تکبرکے محرکات سے اکڑتی نہیں ہے بلکہ مزید وہ اللہ کے آگے جھک جانے والا بن جاتا ہے، اور اس میں انسانوں سے مزید خیرخواہی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ یہ تین واقعات بھی ہمیں اسی جانب متوجہ کرتے ہیں کہ قرآن کے استقبال میں اپنے باطن و ظاہر میں وہ محرکات پیدا کر لیے جائیں اور ان چیزوں پر ہم عمل پیرا ہو جائیں جن کے اختیار کے نتیجہ میں ہمیں کامیابی لازمی حاصل ہوگی، انشااللہ۔

یکسو ہو جائیے: آج اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بقا و تحفظ کے لیے ان اقدامات کی ضرورت ہے جو دنیا میں رواج پا چکے ہیں تو یہ نہ صرف ہماری کم عقلی ہوگی بلکہ دین کی تعلیمات سے دوری بھی نمایاں کرے گی۔ علمی میدان میں ترقی، معاشی میدان میں ترقی، عورتوں کی آزادی اور بالا دستی، صنعت و حرفت میں پیش قدمی، سائنس و ٹیکنالوجی میں دریافتیں، چاند اور مریخ پر قلابیں، یہ اور ان جیسے تمام نعروں میں اس وقت تک کوئی دم نہیں ہے جب تک کہ وہ اسلام کے سانچے میں نہ ڈھلے ہوئے ہوں۔ ہم دینی مدارس کھولتے ہیں، کلمہ اور نماز کی تبلیغ کرتے ہیں، فسق و فجور کے خلاف وعظ و تلقین کرتے ہیں، اور گمراہ فرقوں کے خلاف مورچے لگاتے ہیں، حاصل؟۔ حاصل یہ کہ بس جس رفتار سے دین مٹ رہا ہے اور مسلمانوں کی عملی زندگی سے دور ہوتا جا رہا ہے اس کے مٹنے میں ذرا سستی آجائے اور زندگی کو سانس لینے کے لیے ذرا کچھ دن اور مل جائیں لیکن یہ امید کبھی نہیں کی جا سکتی کہ اللہ کا دین غالب آجائے یا اللہ کا کلمہ عوام الناس کے دلوں کی دھڑکن بن جائے۔ پھر یہ خیال کہ موجودہ نظام تو ان ہی بنیادوں پر قائم رہے، مگر اخلاق،معاشرت، معیشیت،نظم و نسق یا سیاست کی موجودہ خرابیوں میں سے کسی کی اصلاح ہو جائے گی، تو یہ بھی کسی تدبیر سے ممکن نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظامِ زندگی کی بنیادی خرابیوں کی آفریدہ اور پروردہ ہیں اور ہر خرابی کو دوسری بہت سی خرابیوں کا سہارا مل رہا ہے۔

ایسے حالات میں ایک جامع فساد کو رفع کرنے کے لیے جامع پروگرام ناگزیر ہے، جو جڑ سے لے کر شاخوں تک پورے توازن کے ساتھ اصلاح کا عمل جاری کرے۔ وہ کامل پروگرام کیا ہے؟ اس سے قبل یہ سوال اہم بن جاتا ہے کہ آپ فی الواقع چاہتے کیا ہیں؟ اس موقع پر ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ اسلام اور جاہلیت کا ملا جلا مرکب، جو اب تک ہمارا نظام حیات بنا ہوا ہے، زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ یہ اگر چلتا رہا تو دنیا میں بھی ہماری کامل تباہی کا موجب ہوگا اور آخرت میں بھی!اب رہا یہ سوال کہ یکسو کیسے ہوا جائے؟ اس کے لیے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اسلام کو حقیقی معنوں میں اختیار کرنے کے قائل ہیں اور کون ہیں جو فکرِاسلامی کو "مغربی اجتہاد" کی روشنی میں پسند کرتے ہیں۔ یعنی یہ کہ ایک گروہ، وہ ہو گا جو اسلام کو عالم انسانیت کی کامیابی، خیر و فلاح اور امن و سکون کا ذریعہ سمجھتے ہوئے فکرِ اسلامی کو زندگی کے ہر مرحلے میں قائم کرنے کا قائل ہے اور دوسرا گروہ، وہ جو اسلام کو موجودہ زمانے میں قابلِ عمل نہیں سمجھتا اور چاہتا ہے کہ کچھ ترمیمات کے ساتھ اس کو اختیار کیا جائے تاکہ ا نسانوں کی خوشنودی حاصل کی جا سکے۔ جس کے نتیجے میں دنیا کی وہ ساری ترقیات حاصل ہو جائیں جو ایک مادہ پرست ذہن اور ایک مادہ پرست معاشرے کی چاہت ہیں۔

وہ لوگ جو اسلام کو اسلامی نظامِ حیات کی شکل میں نہ صرف اختیار کرتے ہیں بلکہ قائم بھی کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے لازم ہوگا کہ اسلام اور غیر اسلام کی اس آمیزش کو، جسے صدیوں کی روایات نے پختہ کر رکھا ہے، تحلیل کریں اور قدامت کے اجزاء کو الگ کرکے خالص اسلام کے اس جوہر کو لے لیں، جو قرآن و سنت کے معیار پر جوہر اسلام ثابت ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ہمارے ان گروہوں کی مزاحمت، اور سخت مزاحمت کے بغیر نہیں ہو سکتا جو قدامت کے کسی نہ کسی جز کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم مغرب کی حقیقی تمدنی و علمی ترقیات کو اسکے فلسفۂ حیات اور انداز فکر اور اخلاق و معاشرت کی گمراہیوں سے الگ کر دیں اور پہلی چیز کو لے کر دوسری چیز کے بالکلیّہ اپنے ہاں سے خارج کر دیں۔

ظاہر ہے کہ اسے ہمارے وہ گروہ برداشت نہیں کر سکتے، جنہوں نے خالص مغربیت کو، اسلام کے کسی نہ کسی مغربی ایڈیشن کو اپنا دین بنا رکھا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ یہ کام ایک انتہائی منظم قوت کی شکل میں ابھرے۔ اپنے گروہی و مسلکی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے لوگ اس میں جوق درجوق شامل ہوں، اور ایک ہمہ گیر سیلاب کی مانند زندگی کے ہر شعبہ پر چھا جائیں۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مغربی تہذیب اٹھی اور چہار جانب چھاتی چلی گئی۔ اس سب کے لیے نہ صرف بلند حوصلوں کی ضرورت ہوگی بلکہ مضبوط سیرت اور صالح اخلاق اور مستحکم ارادے کے انسان درکار ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا آپ خود کو اس کے لیے تیار پاتے ہیں یا پھر یہ کہ تیار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں!! یہ وہ کام ہے جو بنا یکسوئی کے ہو ہی نہیں سکتا اور یہی رمضان المبارک کا پیغام ہے جس کا ہم استقبال کرنا چاہتے ہیں!

ڈی کنڈیشنگ کا عمل: انسان جب کسی کا غلام ہو جائے تو اس کے لیے لازم آتا ہے کہ اس کی غلامی کو دور کر دیا جائے۔ انسان جسمانی اور عقلی بنیادوں پر آزاد پیدا کیا گیا ہے اور ساتھ ہی وہ اللہ کا بندہ بھی ہے۔ لہذا اس کے جسم اور اس کی فکر کو ہر اس غلامی سے نجات دلانا اولین فرض ہے جس کی غلامی میں وہ رہ کر غورو فکر اور عمل کرتا ہے۔ ڈی کنڈیشنگ جسے عرفِ عام میں تطہیرِ قلب و فکر کہہ سکتے ہیں،یہ عمل انسان کے لیے ہر طرح کی نفسیاتی غلامی کے خاتمے کا عمل ہے۔ یہ عمل انہی افراد کو نفسیاتی غلامی سے آزاد کر سکتا ہے جس میں آزادی کی خواہش پائی جاتی ہو۔ جس شخص میں یہ پوٹینشل نہ ہو اسے آزاد کروانا بہت مشکل ہے۔ آزاد ہونے کے پو